اصول و ضوابط برائے مستفتی حضرات
سوال ارسال کرنے سے قبل مستفتی حضرات مندرجہ ذیل ہدایات کو بغور ملاحظہ فرمالیں؛ تاکہ دارالافتاء کا نظام منظم، مفید اور باوقار انداز میں چل سکے:
۱) سوال کی نوعیت:
٭سوال حقیقی اور عملی زندگی سے متعلق ہو، فرضی اور فضول سوال نہ ہوں۔
٭سوال اپنے عمل سے متعلق ہو دوسرے شخص کی نجی زندگی اور عمل سے متعلق سوالات نہ بھیجیں۔
٭جوسوالات واہیات اور فحش نوعیت کےہو ںیا اشتعال انگیز ،تعصب ، بے ادبی پر مبنی ہوں، تودارالافتاء ان کے جوابات دینے کا پابند نہیں ہے ؛ اس لئے ایسے سوالات پوچھنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور نہ ہی جواب کا انتظار کریں۔
٭ہر سوال کا جواب دینا دارالافتاء کے ذمہ ضروری نہیں، سوال کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے دارالافتاء حسب صوابدید خدمت کرے گا۔
٭خواب کی تعبیر یا بچوں کے نام وغیرہ سے متعلق سوالات کے لیے براہِ راست فون پر رابطہ کیا جائے۔
٭اگر سوال کسی ادارے، جماعت یا ادارتی پالیسی سے متعلق ہو تو اس کے ساتھ درست اور مکمل تفصیلات لازماً درج کریں۔
٭ایسی معلومات جن سے شخصی پردہ فاش ہو رہا ہو، ان سے اجتناب کیا جائے۔
٭جرائم، زیادتی یا سنگین مقدمات میں پہلے متعلقہ قانونی اداروں سے رجوع کیا جائے۔
٭اگر سوال دو فریقوں (زوجین، شرکاء یا متنازعہ فریقین) سے متعلق ہو تو ایک طرفہ بیان پر فتویٰ نہیں دیا جائے گا۔
٭عدالتی مقدمات، جائیداد کے جھگڑے، خاندانی و وراثتی تنازعات میںبھی دارالافتاء فریقین کو سنے بغیر فتویٰ نہیں دے سکتا۔اورایسے معاملات میں دونوں فریق تحریری یا بالمشافہ اپنی بات پیش کریں گے۔
٭نکاح، طلاق، وراثت یا لین دین جیسے مسائل میںدرست اور مکمل معلومات فراہم کرنا لازمی ہے؛غلط معلومات پر مبنی فتویٰ معتبر نہیں ہوگا۔
٭جس مسئلہ میں گواہ، دستاویز یا شرعی شہادت کی ضرورت ہو،وہ فراہم کی جائے۔
۲)سوال لکھنے سے متعلق:
٭سوال مختصر ، جامع اور واضح ہو، غیر ضروری تفصیلات سے اجتناب کریں۔
٭جو حضرات اردو لکھنا جانتے ہیں ، وہ سوال اردو ہی میں لکھ کر بھیجیں ۔
٭ایک سوال نامہ میں ایک یا دویا زیادہ سے زیادہ تین سوالات دریافت کئے جائیں، اس سے زیادہ سوالات دریافت کرنے ہوں تو اسے دوسرے سوال نامہ میں لکھیں۔بہتر ہوگا کہ ایک استفتاء کا جواب ملنے کے بعد دوسرا استفتاء بھیجیں۔
٭سوالات میں ادبِ گفتگو اور احترامِ علم و اہلِ علم کا لحاظ رکھیں۔
۲)سوال بھیجنے کے آداب:
٭سوال صرف ایک ذریعہ (بالمشافہ ، ای میل یا ویب سائٹ) سے ارسال کریں، ایک ہی سوال کو متعدد ذرائع سے بھیجنے سے اجتناب کریں۔
٭سوال کو بار بار مکرر بھیجنے سے احتراز کریں۔
٭ایک ہی مسئلہ بار بار مختلف انداز میں نہ پوچھیں۔
٭ایک ہی سوال کو متعدد مفتیانِ کرام کو بھیج کراپنی پسند کا جواب تلاش کرناصحیح نہیں ہے۔
٭سوال بھیجنے کے بعد اپنا ای میل چیک کر لیں ، اگر آپ نے اپناصحیح ای میل ایڈریس درج کیا ہے تو آپ کو وصولیابی کا پیغام موصول ہوجائے گا۔اور جواب آپ کے دئے گئے ای میل ایڈریس پربھی ارسال کیا جائے گا۔
٭آپ اگر فائل بھیجنا چاہتے ہیں تو امیج یا پی ڈی ایف فارمیٹ کے بجائے اوریجنل ٹیکسٹ ڈاکومینٹ جیسے ان پیج یا ورڈ کی فائل ہی بھیجیں۔
٭تمام تر تحقیقات کے بعد ہی سوال بھیجیں،سوال بھیجنے کے بعد مزید تحقیق نہ کرنے کی وجہ سے اگر مسئلہ بگڑ جائے تو اس کی ذمہ داری دارالافتاء پر نہیں ہوگی۔
٭دارالافتاء کا مقصد امت کی شرعی رہنمائی ہے، اس لیے مستفتی حضرات سے مودبانہ گزارش ہے کہ سوالات ادب، احتیاط اور سنجیدگی کے ساتھ ارسال کریں تاکہ جواب معتبر اور مفید ہو سکے۔
۲)جواب کے حصول سے متعلق:
٭ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جواب ہم جلد از جلد روانہ کر سکیں ، تاہم سوالات کی کثرت کی بناء پر آپ کو جواب ملنے میں تاخیر ہو سکتی ہے، اسی طرح تحقیق طلب اور غور طلب مسائل کے جواب میں بھی وقت لگ سکتا ہے؛اس لیے سوال بھیجنے کے بعد جلدی جواب کا تقاضا نہ فرمائیں۔
٭فتوی کے لئے تقریباًپانچ دن انتظار کریں ،پھر بھی جواب موصول نہ ہو تو ہم سے ایک باررابطہ کرلیں۔
٭جواب موصول ہونے کے بعد مستفتی پر لازم ہے کہ اسے سمجھ کر اپنے حالات پر صحیح طریقہ سے نافذ کرے۔
۲)جواب کی ترسیل کے بعد:
٭دارالافتاء سے حاصل کردہ فتاویٰ کو تحریف یا من گھڑت تفسیر یا من پسند تعبیر کے ساتھ سوشل میڈیا پر شائع نہ کریں۔
٭اگر کسی جواب کے سمجھنے میں اشکال ہو تو مزید وضاحت کے لیے الگ سوال میں استفسار کریں،جواب میں رد و بدل خود سے نہ کریں۔
٭فتویٰ صرف مستفتی کے مخصوص حالات کے مطابق ہوتا ہے؛اسے سب پر یکساں نافذ نہ سمجھایا جائے۔
٭دارالافتاء کا جواب بغیر اجازت پرنٹ، پوسٹ، گروپس یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ممنوع ہےالایہ کہ لفظ بہ لفظ، بغیر تبدیلی کے نشر کیا جائےاور ماخذ کا مکمل ذکر کیا جائے۔
۳)شرعی و اخلاقی آداب:
٭مفتیانِ کرام کے ساتھ بحث و مباحثہ یا اپنی رائے منوانے کی کوشش نہ کریں۔
٭دارالافتاء کے اوقات اور عملی حالات کا لحاظ رکھتے ہوئےغیر ضروری فون، وائس کال یا فوری جوابات کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں۔
٭دارالافتاء خدمتِ دین کا مرکز ہےاس لیے یہاں:تنقید، گالی گلوچ،بے جا سختی یا بدتمیز ی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
۳)دارالافتاء کا وقت:
٭دارالافتاء کا وقت انڈیا کے اعتبار سے آٹھ بجے تا چار بجےہیں،اس لئےانہی اوقات میں سوالات پوچھے جائیں۔اگر ایمرجنسی ہوتو فون پر رابطہ کرلیں۔
