مدرسہ حفصہ للبنات(شعبہ حفظ و ناظرہ اناث)

دینی تعلیم اسلام کا پہلا سبق ہے ،ہر مسلمان مرد وعورت کیلئے دین کی بنیادی تعلیم ضروری ہے،جہاں مردوں کی دینی تعلیم ناگزیر ہے ،وہیں عورتوں کیلئےبھی دینی تعلیم ضروری ہے ،بلکہ بعض وجوہ سے عورتوں کی تعلیم زیادہ اہمیت کی حامل ہے،اسی مقصد کے پیش نظراکابر علماء کے مشورہ سے ’’مدرسہ حفصہ للبنات‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،جہاں طالبات اور خواتین کے لئےناظرہ ٔقرآن،حفظ وعالمیت اور مؤمنہ کورس کے شعبہ جات قائم ہیں۔
خصوصیات
٭ مکمل نگرانی صدر معلمہ صاحبہ (اہلیہ حضرت مفتی احمد اللہ نثار صاحب قاسمی دامت برکاتہم) ۔
٭ ناظم تعلیمات اہلیہ مولانا عبد الرقیب صاحب دامت برکاتہم-
٭ اجتماعی طور پر فرائض وسنن کی ترغیب وعملی مشق۔
٭ پردہ کا معقول نظم ۔
٭ آمد ورفت کے وقت راستہ کی نگرانی۔
٭ ہر طالبہ پر انفرادی توجہ کے ساتھ کمزور طالبہ پر خاص محنت۔
٭ معلمات کی نگرانی میں تربیتی ماحول۔
٭ وقتاً فوقتاً اصلاحی نشست۔
٭ ماہانہ جائزے اور امتحانات۔
٭ ہفتہ واری انجمن کا نظام۔
٭ غیرحاضری کی صورت میں سرپرستوں کوبروقت اطلاع۔
٭ بروقت بذریعہ واٹس ایپ گروپ میں مدرسہ سے متعلق امورکی اطلاع۔
نورانی قاعدہ
٭ مبتدی طالبات کو بذریعہ چارٹ افہام وتفہیم کی مشق۔
٭ اجتماعی طور پرپڑھنے پڑھانے کا نظام ۔
٭ ورک بک میں ہوم ورک کے طور پر سبق لکھا نے کا اہتمام۔
٭ مخارج کی ادائیگی وصفات لازمہ پر خوب مشق کا لزوم ۔
٭ روزانہ مغرب وفجر بعد کی تعلیم کی اطلاع وترغیب۔
٭ دوماہ سے ڈھائی ماہ میں قاعدہ مکمل کروانے کی کوشش۔
ناظرۂ قرآن
٭ ہر سبق کو کم وپیش ۲۵ مرتبہ پڑھ کر آنے پر زور ۔
٭ تکمیل قرآن کےبعد حفظ کا آغاز ۔
٭ تقریباً سوا سال میں ناظرہ قرآن مکمل کروانے کی کوشش۔
٭ناظرہ قرآن کریم آخری منزل سے شروع کرائی جاتی ہے پھرپہلے پارہ سے ابتداء۔
حفظ قرآن مجید
٭ پارہ ۳۰سے حفظ کا آغاز،بعدہ پنج سورہ (سورہ الم سجدہ،ملک،یس، واقعہ،دخان)۔
٭ یومیہ آموختہ ، پارہ سبق اور تین سبق حسب ترتیب سننے سنانے کا اہتمام ۔
٭ ہر منزل کا امتحان ،تکمیل حفظ کے بعدایک مجلس میں مکمل قرآن سننے کا اہتمام۔
٭ ترتیب وار پاروں کا امتحان ۔
٭ فجر ومغرب وعشاء بعد گھر میں تعلیم کےلئے بیٹھنے پر ترغیب اورسرپرست سے جائزے۔
٭ منزل کے ختم پر منزل کے امتحانات کا اہتمام۔
٭ مدت حفظ تقریباً ۳؍سال (کمزور طالبات پر ایک سال تک ممکنہ طرق سے کوشش ،بصورت دیگر والدین یا سرپرست حضرات سے مشورہ کرکے کوئی مناسب حل۔)
مذکورہ نصاب میں مشترکہ خصوصی امور
٭تجوید کے ساتھ خوش الحانی پر خاص توجہ۔
٭جزوی امتحانات کے بعد تعلیمی ترقی ۔
٭عدم اعتماد پر دوبارہ امتحان۔
٭روزانہ ترتیب وار آموختہ سننے سنانےاور اس کو قلمبند کرنے کا اہتمام۔
٭یومیہ کارکردگی لکھنے کے لئے روزنامچہ کا معمول۔
٭مقدار کے ساتھ معیارِ تعلیم پرتوجہ ۔
٭بناغلطی سبق سنانے پرہی اگلے سبق کے حقدار۔
٭ کمزور طالبات کو ان کے ذہنی سطح کے مطابق سمجھانے کا نظام۔
٭ وقتاً فوقتاًسرپرست حضرات سےمعلمہ صاحبہ کی تعلیمی ملاقات ۔
٭جزوی امتحانات میں مکمل مقدارِامتحان کی نتیجہ خیز تلاوت سننے کا اہتمام۔
٭ ماہانہ مقدار خواندگی کے اندراج کا معمول۔
٭ حفظ کے تمام طالبات کے یومیہ سبق کی ریکاڈنگ کا اہتمام۔
٭ ماہانہ تعلیمی رپورٹ قابل فکر ہونے پر سرپرست حضرات سے فوری طور پر ملاقات کا نظام۔
تربیتی نصابِ دینیات
٭ نصاب دینیات (مؤلفہ :حضرت مولانا احمد عبید الرحمٰن اطہر ندوی صاحب دامت برکاتہم) بطور نصاب پڑھا یاجاتاہے ۔
٭ روزانہ متعینہ مقدار کے مطابق سبقاً سبقاً پڑھائی جاتی ہے ۔
٭ مکمل نصاب کا جائزہ لیاجاتاہے ۔
٭ ہفتہ واری انجمن میں اپنے متعلقہ حصہ میںسے سناناضروری ہے ۔
٭ مکمل دینیات امتحان کے طور پر نگران شعبہ کو سنانالازمی ہے۔
٭ رسمی امتحان سے گریز ،یاد ہونے پرہی ترقی، یادنہ ہونے پر سختی کی جاتی ہے ۔
٭ کمزور طالبات کے لئےاجتماعی طور پر دینیات پڑھانے کا اہتمام ۔
٭ترتیب واردرسگاہ میں آموختہ سننے سنانے کا نظام ۔
٭تکمیل ناظرۂ قرآن کےساتھ تکمیل دینیات لازمی ہے۔
٭مشمولات دینیات پر عمل کی ترغیب دی جاتی ہے۔
٭ طالبات میں تربیتی واقعات اور اصلاحی کتب کی تعلیم کے ذریعہ دینی ذہن سازی کی ضرورت۔
٭ نعت خوانی پر توجہ۔
٭ خوش الحانی پر توجہ۔
٭ قرآن،نعت اور دینیات میں مسابقات۔
اردو
٭شعبہ ناظرہ وحفظ کے تمام طالبات کے لئے مستقل اردو سیکھنے سکھانے کا نظام ۔
٭املاء اور اردو خوشخطی پر خصوصی توجہ ۔
٭ناظرہ کی تعلیم کےلئے اشرفی تعلیم کے ۵ حصوں کی مکمل تعلیم۔
٭شعبۂ حفظ کے طالبات کیلئے تعلیم الاسلام ،سیرت،مختصرعقائدوغیرہ۔
٭نصف گھنٹہ مستقل علیحدہ استاذ کےنگرانی میں اردوکی تعلیم ۔
٭ طالبات کے لئے تربیتی واقعات کے ذریعہ دینی ذہن سازی کی کوشش۔
شرائط وضوابط
٭ ۹۰ ؍فیصد حاضری لازم ہے ۔
٭ ماہانہ فیس بروقت ادا کرنا ضروری ہے ۔
٭ مسلسل دس یوم تک بلا اجازت غیر حاضر رہنے پر داخلہ منسوخ ہوسکتا ہے۔
٭ طالبہ کے آمد ورفت کے وقت سرپرست یا محرم کا ساتھ ہوناضروری ہے۔
٭ کسی بھی طرح کے فون رکھنے کی قطعاًاجازت نہ ہوگی بصورت دیگر اخراج کردیا جائےگا۔
٭ اسلامی وضع قطع ہونا ضروری ہے، فیشن والابرقع مزید اشیاءزینت کی بالکل اجازت نہیں ہے۔
٭ ۱۱؍ سال سے زائد عمر والی لڑکیوں کے لئے برقع لازمی ہے۔
٭ تعطیل کے لئےطالبہ کے ذریعہ کوئی زبانی پیغام نہ بھیجیں، اگر خود نہ آسکتے ہوں تو تحریراً اطلاع کریںیا فون کریں۔
٭ نیا داخلہ سہ ماہی تک عارضی رہے گا، اس عرصے میں طالبہ کی تعلیمی و اخلاقی حالت اطمینان بخش رہی تو داخلہ مستقل رہے گا، ورنہ کوئی مناسب کار روائی کی جائے گی۔
٭ یوم والدین میںسرپرست حضرات کی شرکت ضروری ہوگی۔
٭ ہر ماہ کی دو تاریخ کو سرپرست کا طالبہ کی تعلیم سے متعلق معلمہ صاحبہ سے ملاقات۔
٭ مذکورہ تمام امور میں اور اسی طرح وقتاً فوقتاً دی جانے والی ہدایات پر طالبہ اور والدین کو عمل آوری کرنا ہوگا ۔
رابطہ: مفتی تاج الدین صاحب قاسمی
