شعبہ عالمیت ذکور (آف لائن)

خصوصیات

٭ ہرکتاب اورہرباب میں تسہیل اورتجدیدکا لحاظ رکھتے ہوئے عملی مشق وتمرینات کے ساتھ پڑھانے کا اہتمام ۔
٭ہر طالب علم پر انفرادی توجہ کے ساتھ کمزور طلبہ پر خاص محنت۔
٭ قراءت وتجوید کا باضابطہ گھنٹہ (لحن کا خصوصی اہتمام)۔
٭ ڈائری اور روزنامچہ کا اہتمام۔
٭ہر درسگاہ میں ایک مختصر سی لائبریری (جس میں متعدد نسخے،معاون کتب دستیاب ہیں)۔
٭ماہانہ جائزے اور امتحانات(بذریعہ نگران شعبۂ عالمیت مفتی رفعت رضوان صاحب قاسمی دامت برکاتہم)۔
٭ ہرجمعرات طلبہ کی انجمن سےپہلے ایک گھنٹہ مختلف موضوعات پر اساتذۂ کرام کےبیش قیمت محاضرات۔
٭ابتدائی درجات میںاردو،عربی خوشخطی، مضمون نگاری اور تقریر کےلئے باضابطہ گھنٹے کی مدد سے تربیت ۔
٭درسیات میں کمی کے بغیر اہم خارجی موضوعات کی تعلیم۔
٭استاذ کی نگرانی میں روزانہ خارجی مطالعہ کے لئے مستقل وقت۔
٭ انگریزی بول چال پر مستقل گھنٹہ کے ساتھ خصوصی توجہ۔
٭عصریات ( دسویں جماعت ) ssc وغیرہ کی تعلیم کے لیے رہنمائی و معاونت۔
٭ طلبہ میں تعلیمی و تربیتی ترقی کے لئے حاضری اور مطالعہ وغیرہ پر انعامات کا نظام۔
٭ وسیع وعریض لائبریری سے استفادہ۔
٭تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی توجہ ۔
٭ تربیتی ماحول (تہجد میں بیداری ، مناجات مقبول کی ترتیب ، درود کاورد ، اعمال جمعہ کا اہتمام وغیرہ ) ۔
٭ وقتاً فوقتاً خانقاہ جمالیہ معین آباد انکاپلی میںحضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمن صاحب مفتاحی دامت برکاتہم سےاستاذ کی نگرانی میں استفادہ ۔
٭وقتاً فوقتاً اہل دل علماء کرام سےاستفادہ ۔
٭ حمد ونعت کابھی سال میں ایک بار مسابقہ ہوتا ہے۔
٭اردو سے ناواقف طلبہ کے لئے اعدادیہ کا نظم۔
٭ہر بڑی اجتماعی چھٹی کےبعد اساتذۂ کرام کے ساتھ تبلیغی جماعت کا نظم ۔
٭ہر ہرطالب علم کی تعلیمی واخلاقی حالات پر خصوصی تحریری رپورٹ۔
٭ حتی المقدورعمدہ سےعمدہ نظام طعام ۔
٭ طلبہ کرام کیلئے ممکنہ سہولتیں (واشنگ مشین،گیزر،استری وغیرہ)
٭ضرب کے بغیر حتی الامکان ترغیب وترہیب کے ساتھ کام۔
٭۲۴؍گھنٹے اساتذہ ٔ کرام کی نگرانی ۔

ادارۂ ہذا میں خصوصیات ِ درس

 ٭تسہیل،ترتیب اور خلاصہ کا اہتمام۔
٭سبق کی تفہیم کے لئے P.P.Tچارٹس اور VIDEOSکی مدد لی جائے گی۔
٭نئے فقہی مسائل سے آگاہی وتطبیق۔
٭علوم آلیہ مثلاًنحو وصرف میں تمرین پر خصوصی توجہ۔
٭عملی مشق کا اہتمام (وضو،نماز،غسل میت، جنازہ ،تدفین اورزکوۃ کا حساب بذریعہ کیلکولیٹروغیرہ )

شرائط وضوابط

٭اول عربی میں داخلے کیلئے اردوسے واقفیت شرط ہے۔
٭مطلوبہ درجہ میں داخلہ امتحان کے بعد استعداد کی بنیاد پر ہوگا۔
٭90%حاضری لازم ہے۔
٭ تعطیل کے لئےقبل از وقت سرپرست حضرات تحریری پیغام بھیجیں یافون پررابطہ کریں۔
٭ مسلسل دس یوم تک بلا اجازت غیر حاضر رہنے پر داخلہ منسوخ ہوسکتا ہے۔
٭ فون رکھنے سے سخت احترازضروری ہے ،بصورتِ دیگر داخلہ منسوخ ہوگا۔
٭ اسلامی وضع قطع ہونا ضروری ہے، غیر شرعی بال اورلباس کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔
٭دارالاقامہ لازمی ہے۔
٭ماہانہ فیس بر وقت اداکرنا ضروری ہے۔
٭ نیا داخلہ سہ ماہی تک عارضی رہے گا، اس کے بعد طالب علم کی تعلیمی و اخلاقی حالت اطمینان بخش رہی تو داخلہ مستقل رہے گا، ورنہ کوئی مناسب کار روائی کی جائے گی۔
٭یوم والدین میںسرپرست حضرات کی شرکت ضروری ہوگی۔
٭ مذکورہ تمام امور میںاور اسی طرح وقتاً فوقتاً دی جانے والی ہدایات پر طالب علم اور والدین کو عمل آوری کرنا ہوگا ۔

نصاب

دار العلوم دیوبند کا نصاب ومنہج ہی بنیاد ہے، نصاب میں قدرے ترمیم کے ساتھ مزید علوم بھی پڑھائے جائیں گے۔نصاب کی ترمیم میں خود کی ذاتی رائے،اور مخصوص ذہنی غلبہ کے بجائے اکابرین امت کے ارشادات ،زمانہ کی ضرورت،طلبہ کا فائدہ،فن کی جامعیت پیش نظر رہتی ہے۔محض تکرار ہی تکرار نہ ہو،بل کہ فن مکمل پڑھایا جائے۔اس کے علاوہ کتابوں کے نسخہ کےانتخاب میں تسہیل ،ترتیب ،تجدید کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔تاکہ طلبہ کو مکمل فائدہ ہو۔

نظام مطالعہ

مطالعہ کی اہمیت وافادیت اہل علم کے یہاں مسلم ہے۔ جس کے ثمرات سے اہل علم و دانش فیض حاصل کرتے ہوئے آئے ہیں،طالب علم کو درسیات کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی موضوعات پر علمی گہرائی وگیرائی حاصل ہو، بنیادی معلومات میں اضافہ ہو، تاریخ وثقافت سے باخبر ہو،بالغ نظری ،اسلامی بیداری ،فکر ونظرمیں ارتقاءپیدا ہو،اس کےلئے ہمارے ادارہ میں مطالعہ کا نظام منظم طریقہ سے شروع کیا گیاہےروزانہ کے صفحات مناسب مقدار میں متعین کئے گئے ہیں، تاکہ طلبہ درسیات کو متاثر کئے بغیر بسہولت متعینہ وقت(بعد درسیات آدھا گھنٹہ) میں مطالعہ کرسکیں،اور اس کی باضابطہ نگرانی ہوتی ہے،ہر جماعت کے نگراں طئے کئے جاتے ہیں،مکمل مطالعہ کرنے پر انعامات سے نوازا جاتا ہے۔نیزمطالعہ کا ذوق وشوق پیدا کرنے کے لئے دیگر مفید تدابیربھی اپنائی جاتی ہیں،اور طلبہ کو خلاصہ لکھنے کا پابند بنایا جاتا ہے؛ تاکہ کیا گیا مطالعہ مستحضر ہوجائے،اور مضمون لکھنے کی بھی عادت ہوجائے، نظام مطالعہ منظم ومستحکم رہے،اس کے لئے ہر جماعت کی علمی وذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئےمطالعاتی نصاب بنایا گیا ہے، اور سال بھر کے کل صفحات اور یومیہ مقدار خواندگی بھی لکھ دی گئی ہیں ،تاکہ طلبہ اپنے مطالعہ کو بآسانی مکمل کرسکیں۔

نظام انجمن

ہر دور میں تقریر کی افادیت مسلم رہی ،آج کی اس ترقی یافتہ دور میں تقریر کا جادوکسی ذی عقل کی نظر سے پوشیدہ نہیں، بقول حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے: فن خطابت تمام علوم کا معاون ہے،گونگا عالم صحیح معنیٰ میںنہ مدرس بن سکتا ہے،نہ خطیب اور نہ قوم کا صحیح رہنما؛ اسی مقصد کے پیش نظر اساتذہ کی نگرانی میں طلبہ کو فن خطابت کی مشق کرائی جاتی ہے، تاکہ مافی الضمیر کا صحیح طور پراظہار ہو،سنجیدہ زبان ہو،علمی ،فکری ،اصلاحی،تاریخی اعتبار سے گفتگو ہو،اس لئے باضابطہ نوک وپلک اور اتارچڑھاؤ کو درست کیا جاتا ہے، اغلاط کی نشاندہی کی جاتی ہے، تاکہ آئندہ عملی میدان میں صحیح مافی الضمیر کے ساتھ عوام کو دینی تعلیمات سے روشناس کراسکیں۔رسمی تقریر ولہجے کے بجائے پرمغز مواد ونکات پر مشتمل انداز بتایا جاتا ہے۔

خصوصیات:

٭ ہر پندرہ دن میں ایک بار تقریر کی باری آتی ہے۔
٭ اول ودوم عربی کے طلبہ تقریر یاد کرکے کرتے ہیں، اور سوم وچہارم کے طلبہ تقریر بناکر کرتے ہیں۔
٭ جمعہ کے عربی خطبے بھی یاد دلائے جاتے ہیں۔
٭طلبہ کوشروع سال میںتقریر کا انداز واسلوب P.P.T اور Video کی مدد سےدو تین محاضرات کی شکل میں بتایا جاتا ہے۔
٭ ہر مہینہ دو بار اردو انجمن اور دو بار عربی انجمن قائم ہوتی ہے،جن میں طلبہ لازماً شرکت کرتے ہیں۔
٭ان شاء اللہ مہینہ میں ایک بار انگریزی تقریر کا نظم بھی رہے گا۔
٭ ہر مقرر کا وقت، کیفیت اور دورانیہ مکمل اہتمام سے لکھا جاتا ہے اور انجمن کے ختم پر نگران احسن طریقے پر اغلاط کی تصحیح کرتے ہیں۔
٭ سال کے اختتام پر ایک اردو وعربی مسابقہ رکھا جاتا ہے، جس میں اول ،دوم ،سوم آنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔
٭ انجمن کے ذمہ دار کی طرف سے حالات حاضرہ کے مطابق طلبہ کواہم اور ضروری عناوین دئے جاتے ہیں۔
٭ ان شاء اللہ انگریزی زبان میں بھی تقریر وتحریر پر معتد بہ محنت کرائی جائے گی۔

 مضمون نگاری

دین کی اشاعت کا سب سے بڑا مضبوط ذریعہ تحریر بھی ہے،یہ بات عیاں ہے کہ زبان سے زیادہ قلم کا فائدہ دیرپا رہا ہے۔اور ایک عالم دین کے لئے تحریری صلاحیت کاہونا بہت ضروری ہے، اسی مقصد کے پیش نظرطلبہ میں مضمون نگاری کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لئے اساتذہ کی سرپرستی میں ماہا نہ مضمون نگاری کا نظام بنایا گیا ہے۔
طلبہ کے لئے مہینہ میں ایک مرتبہ مضمون لکھنا ضروری ہوتا ہے،اساتذہ عنوان کے ساتھ مواد بھی فراہم کرتے ہیں،باضابطہ ان کی تربیت بھی کی جاتی ہے،جس میں مضمو ن کے نوک وپلک کو  درست کرنا اور تعبیر وانشاء کو بہتر سے بہتر بنانا ،اغلاط کی نشان دہی ،ابتدائیہ وخاتمہ کا نہج وغیرہ بتلایا جاتا ہے،اساتذہ خود ان کی تصحیح کرتے ہیں۔بڑی جماعت کےطلبہ اردو کے ساتھ عربی مضمون  بھی لکھتے ہیں۔نیز ہر جماعت کے دیواری پرچے کے ذمہ دار اساتذہ وطلبہ طے ہوتے ہیں اور ادارے میں مرکزی اردو،عربی اور فارسی دیواری پرچہ نکلتا ہے۔طلبہ کی صلاحیت کو مزید اجاگر کرنے کے لئے سالانہ تحریری مسابقہ بھی ہوتا ہے۔

نظام محاضرات

دور حاضر کے جن موضوعات سے ایک عالم دین کو آگاہ ہونا ضروری ہے ،انہیں داخلہ نصاب کرنے کے بجائے محاضرات کا نظام بنایا گیا ہے؛تاکہ درسیات کا نظام متاثربھی نہ ہواور ہمارا مقصود بھی حاصل ہوجائے،درسیات ومطالعہ کے بعد جو کچھ کمی رہ جاتی ہےاس کو محاضرات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،سیرت،سوانح اکابر، ،فقہی موضوعات،تصوف ، تاریخ،طب،قانون، فرق ضالہ کا سنجیدہ تعاقب ،سلاطین اسلام کا معتدل دفاع ،فتن، ملکی، ملی ،عالمی ، سیاسی ،سائنسی ،معاشرتی ، عائلی ،اخلاقی مسائل اورحالات حاضرہ وغیرہ پرمحاضرات ہوتےہیں،اورصحیح نقطۂ نظر پیش کیا جاتا ہے۔حالات کی مناسبت سے محاضرات کے موضوعات ہر سال بدلتے رہتےہیں، حیدرآباد واکناف کے مختلف فنون کے باکمال افراد کو استفادہ کی غرض سے ہمارے ادارہ میں مدعو کیا جاتا ہے۔ہرجمعرات انجمن سے پہلے محاضرہ کی مجلس منعقد کی جاتی ہے،جس میں باری باری اساتذۂ کرام محاضرات پیش فرماتے ہیں۔

محاضرات کی خصوصیات

٭سینکڑوں صفحات کا خلاصہ ونچوڑ ۔
٭موسمی اورہنگامی حالات سے محاضرات کےذریعہ آگاہی ( موسمی جیسے گاؤکشی حقائق اور غلط فہمیاں ،ماہ صفرمیں توہم پرستی وغیرہ) ۔
٭ہر موضوع پر دلائل اور حوالہ جات کی روشنی میں سیر حاصل بحث۔
٭ افادۂ عام کی غرض سے یہ محاضرات youtobeپر Mufti ahmadullah officialچینل پر اپلوڈ کیا جاتا ہے۔ (پرمفتی احمد اللہ آفیشل اپلوڈ کئے جاتے ہیں۔
اور تحریری طور پر دارالعلوم رشیدیہ ٹیلی گرام چینل  پر اپلوڈ کئے جاتے ہیں۔

موضوعات محاضرہ اسمائے محاضرین

(۱) فقہیات مفتی سہیل الدین صاحب قاسمی
(۲)فقہیات مفتی تاج الدین صاحب قاسمی
(۳) شخصیات مفتی سید سلمان صاحب قاسمی
(۴) مضمون نگاری وطریقۂ کار مفتی صلاح الدین صاحب قاسمی
(۵)فرق ضالہ مفتی عزیر صاحب فلاحی
(۶) سیاسیات مفتی حمزہ عمودی صاحب حسینی
(۷)تفسیر اور اصول تفسیر مفتی عبدالخالق صاحب

محاضر: مفتی تاج الدین صاحب قاسمی
فقہیات
۱) اجماع امت اور قیاس کا شرعی ثبوت
۲)خیر القرون میں تقلید کا رواج
۳) اجتھاد اور ائمۂ مجتہدین
۴) فقہ حنفی میں حلت و حرمت کے اصول و ضوابط
۵) فقہ حنفی کی ترویج اور اس کے مراکز
محاضر: مفتی سہیل الدین صاحب قاسمی
فقہیات
۱)فقہاء احناف کا تعارف
۲)فقہ حنفی اور اس کا منہج استنباط
۳)مسالک اربعہ میں ائمہ کے اختلاف کے بنیادی اجتہادی اصول
۴)دلائل شرعیہ اور فقہی اصطلاحات کا تعارف
۵)مسالک اربعہ کا ماخذ اور ان کا تعارف

محاضر: مفتی صلاح الدین صاحب قاسمی
انشاءپردازی وطریقۂ کار
۱)مضمون نگاری کی اہمیت وطریقۂ کار
۲)مطالعہ کی اہمیت وفوائد
۳)مطالعہ کن کتابوں کا کیا جائے
۴)خطوط نویسی
۵)قواعد املا ورموز اوقاف

محاضر: مفتی عبدالخالق صاحب اشرفی
تفسیر اور اصول تفسیر
۱)عہد رسالت میں تفسیر کی تدوین
۲)عہد صحابہ میں تفسیری خدمات
۳)عہد تابعین میں مفسرین عظام کی خدمات
۴)فن اصول و تفسیر تدوین و تاریخ
۵)معاصر مفسرین کرام
محاضر: مفتی عزیر صاحب فلاحی
فرق ضالہ
۱)تقلید کی شرعی حیثیت
۲)غیر مقلدیت تعارف و تعاقب
۳)شکیلیت تعارف وتعاقب
۴)انجینیر مرزا تعارف و تعاقب
۵)دیندار انجمن تعارف وتعاقب
محاضر: مفتی سلمان صاحب قاسمی
شخصیات
۱)امام ابن تیمیہ ؒ
۲)مولانا ابوالکلام آزادؒ
۳)مولانا محمد میاں ؒ
۴)شیخ محمد عوامہ ؒ
۵)امام غزالیؒ

نگران شعبۂ عالمیت:  مولانا طیب صاحب اشرفی  دامت برکاتہم