شعبہ حفظ وناظرہ ذکور

مشترکہ خصوصیات
٭اساتذہ کی نگرانی میں تربیتی ماحول۔
٭وقتاً فوقتاً اصلاحی نشست۔
٭ہر طالب علم پر انفرادی توجہ کے ساتھ کمزور طالب علم پر خاص محنت۔
٭مکمل نگرانی کے ساتھ تعلیم۔
٭ماہانہ جائزے اور امتحانات۔
٭ہفتہ واری انجمن کا نظام۔
٭ترانہ میں روزانہ خوش الحان قاریوں کی ریکارڈنگ سنانے کا اہتمام۔
٭ طلبہ کے لئے تربیتی واقعات کے ذریعہ دینی ذہن سازی کی کوشش۔
٭تجوید کے ساتھ خوش الحانی پر خصوصی توجہ۔
٭امتحانات کے بعد تعلیمی ترقی ۔
٭عدم اعتماد پر دوبارہ امتحان۔
٭روزانہ ترتیب وار آموختہ سننے سنانے کا نظام۔
٭یومیہ کارکردگی لکھنے کے لئے روزنامچہ کا معمول۔
٭مقدار کے ساتھ معیارِ تعلیم پرتوجہ ۔
٭بناغلطی سبق سنانے پرہی اگلے سبق کے حقدار۔
٭امتحانات میں مکمل مقدارِامتحان کی نتیجہ خیز تلاوت سننے کا اہتمام۔
٭ وقتاً فوقتاًسرپرست حضرات سے تعلیمی ملاقات ۔
٭ ہر تین ماہ میں جمیع طلبۂ حفظ کے مابین مسابقۃ القرآن کا انعقاد۔
نورانی قاعدہ
٭مبتدی طلبہ کو بذریعہ بورڈ افہام وتفہیم کی مشق ۔
٭اجتماعی طور پر پڑھنے پڑھانے کا نظام ۔
٭ورک بک میں ہوم ورک کے طورپر سبق لکھانے کا اہتمام۔
٭مخارج کی ادائیگی وصفات لازمہ پر خوب مشق کا لزوم ۔
٭ دوماہ سے ڈھائی ماہ میں قاعدہ مکمل کروانے کی کوشش۔
٭اساتذہ کی نگرانی میں روزانہ مغرب وعشاء بعد تعلیم ۔
ناظرہ قرآن مجید
٭ہر سبق کو کم و بیش ۱۵ تا ۲۰ ؍ مرتبہ پڑھ کر آنے پر زور ۔
٭ تقریباً سوا سال میں ناظرہ قرآن مکمل کروانے کی کوشش۔
٭ناظرہ قرآن کریم آخری منزل سے شروع کرائی جاتی ہے پھرپہلے پارہ سے ابتداء۔
٭تکمیل ناظرۂ قرآن کے بعدہی حفظ کا آغاز ۔
حفظ قرآن مجید
٭پارہ ۳۰سے حفظ کا آغاز،بعدہ پنج سورہ (سورہ الم سجدہ،ملک،یس، واقعہ،دخان)۔
٭آموختہ ، پارہ سبق اور پانچ سبق پر اطمینان کے بعد ہی اگلے سبق کے حقدار۔
٭ترتیب وار پاروں کا امتحان ، منزل ختم ہونے کے بعدمکمل منزل کا امتحان ۔
٭تکمیل قرآن کے بعد مکمل منزلوں کا امتحان پھر ایک مجلس میں مکمل قرآن سننےکااہتمام۔
٭ ۳؍سال سے کم میں حفظِ قرآن مکمل کروانے کی کوشش۔(کمزور طلبہ پرایک سال تک ممکنہ طرق سے کوشش کی جاتی ہے بصورت دیگر والدین یا سرپرست حضرات سے بعد مشورہ کوئی مناسب حل طئے کیا جاتا ہے)۔
٭روزانہ مغرب وعشاء بعدمضبوط تعلیم ۔
تربیتی نصاب ِدینیات
٭نصاب دینیات (مؤلفہ :حضرت مولانا احمد عبید الرحمٰن اطہر ندوی صاحب دامت برکاتہم) بطور نصاب پڑھایا جاتاہے۔
٭روزانہ متعینہ مقدارکے مطابق دینیات سبقاً سبقاً پڑھائی جاتی ہے۔
٭مکمل دینیات امتحان کے طور پرنگران شعبہ کو سنانالازمی ہے۔
٭کمزور طلبہ کے لئےاجتماعی طور پر دینیات پڑھانے کا اہتمام ہوتا ہے۔
٭ہفتہ واری انجمن میں اپنی طئے شدہ باری میںدینیات کا منتخب حصہ سناناضروری ہے۔
٭ترتیب واردرسگاہ میں آموختہ سننے سنانے کا نظام ہے۔
٭تکمیل ناظرۂ قرآن کےساتھ تکمیل دینیات لازمی ہے۔
٭مشمولات دینیات پر عمل کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اردو
٭شعبۂ قاعدہ وناظرہ کےطلبہ کیلئےاشرفی قاعدہ واشرفی تعلیم کے مکمل ۵؍ حصے ۔
٭شعبۂ حفظ کے طلبہ کیلئے تعلیم الاسلام ،سیرت،مختصرعقائدوغیرہ کی تعلیم۔
٭نصف گھنٹہ مستقل علیحدہ استاذ کے پاس اردو کی تعلیم۔
٭املاءاوراردو خوشخطی پرخصوصی توجہ۔
شرائط و ضوابط
٭ ۹۰؍فیصد حاضری لازم ہے۔
٭ مسلسل دس یوم تک بلا اجازت غیر حاضر رہنے پر داخلہ منسوخ ہوسکتا ہے۔
٭ماہانہ فیس بر وقت اداکرنا ضروری ہے۔
٭کسی بھی طرح کےفون رکھنےکی قطعاً اجازت نہ ہوگی ،بصورت دیگردفتری کارروائی ہوگی۔
٭اسلامی وضع قطع ہونا ضروری ہے،غیر شرعی لباس اور بال ہر گز برداشت نہیں کئے جائیں گے۔
٭ طالب علم کی تعلیمی واخلاقی حالت اطمینان بخش رہی تو داخلہ مستقل رہے گا ؛ورنہ کوئی مناسب کارروائی کی جائے گی ۔
٭ تعطیل کے لئےبچوں کے ذریعہ کوئی زبانی پیغام نہ بھیجیں اگر خود نہ آسکتے ہوں تو تحریراً یا فون پراطلاع کریں۔
٭ یوم والدین میں سرپرست حضرات کی شرکت ضروری ہوگی۔
٭ مذکورہ تمام امورمیں اور اسی طرح وقتاً فوقتاً دی جانے والی ہدایات پر طالب علم اور والدین کو عمل آوری کرنا ہوگا ۔
نگران شعبۂ حفظ و ناظرہ ذکور: مولانامعین الدین صاحب اشرفی دامت برکاتہم
