دینِ اسلام دونوں جہاں میں کامیابی کی ضمانت ہے۔مدارسِ اسلامیہ دین کی حفاظت و اشاعت کا فریضہ ۱۴ صدی سے انجام دے رہے ہیں، رجالِ کار کی تیاری، امت میں بگاڑ کی درستگی، نہجِ نبوت پر چلنے والی تحریکات یہ سب مدارس ہی کے دین ہے، عہدِ نبوی تا امروز دین کی حفاظت و اشاعت بتقاضۂ زمانہ ہوتی رہی ہے، الغرض مدارس کی اہمیت کا ذی عقل انکار نہیں کرسکتے،عصرِ حاضر میں مدارسِ اسلامیہ کے وجود کا یہی مقصد ہے، مدارس کا تحفظ ملت کااجتماعی فریضہ ہے،اس لئے کہ یہ امتِ مسلمہ کا تہذیبی و مذہبی ورثہ ہے۔
انہی مدارس میں سے ایک مدرسہ دار العلوم رشیدیہ ہے جو نامِ نامی اسمِ گرامی امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سے منسوب ہے۔جو حیدرآباد کے مشہور علاقہ مہدی پٹنم کی مسجد قطب شاہی میں واقع ہے، جس میں متنوع قسم کے خدمات سر انجام دئے جارہے ہیں۔

آغاز مدرسہ
۲۰۱۹ء میں جب لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا،توتقریباً تمام دینی وعصری تعلیمی ادارے بند ہوگئے،آن لائن تعلیم مختلف فیہ بن گئی،پانچ سال قبل شروع ہونے والاادارہ حفصہ نسواں جو کرائے کے مکان میںجاری تھا ،وہ بھی فی الفورآن لائن کردیا گیا ،تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں یکایک موقوف ہونے سے بچوں کی زندگیاں ضائع ہونے کا ہر کسی کو کافی شدت سے احساس تھا ، انہیں ایام میں بعدرمضان بعض مخلص دوستوں کا مشورہ رہا کہ مخصوص تعدادمیں محلے کی حد تک بچوں کی آف لائن جزوئی تعلیم کی فکر کی جائے اس ارادے سے تعلیم کا نظام شروع کیا گیا،یعنی جن دنوں میں تقریباتعلیمی ادارے موقوف تھے انہی ایام میں اس ادارے کا قیام عمل میں آیا،بفضلہ تعالیٰ یہی جزوئی نظام کل وقتی نظام میں تبدیل ہوکر مدرسہ کی شکل اختیار کرگیا،الحمدللہ آج یہ دارالعلوم رشیدیہ کےنام سے موسوم ہے،اور دین کی حفاظت واشاعت کا کام بفضلہ تعالیٰ انجام دے رہا ہے۔
مزاج ومنہج
مسلک اہل السنہ والجماعت پر تعصّب کے بغیر تصلّب کے ساتھ دار العلوم دیوبند کا مزاج ومنہج ہی بنیاد ہے،اکابر کی ہدایت کی روشنی میں اور حضرت مولانااحمدعبید الرحمن اطہرصاحب ندوی دامت برکاتہم کی سرپرستی میں ادارہ چلتا ہے۔سازگار ماحول میں مثبت وتعمیری تنقید پر ہمارا ایقان ہے ،عصر حاضر کا ایک ابھرتا ہوا قدیم صالح اور جدید نافع اوروسعتِ نظری کا سنگم ہے ، بصیرت مندی،دردمندی،فکر کی ارجمندی، مزاج کی غیرت مندی اور جرأت مندی کا مظہر ہے۔عصری ہم آہنگی کے ساتھ ہر اگلا قدم تعمیر وترقی اور اصلاح کی سعی کی طرف ہوتا ہے
