اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور اس کی بنیاد علم پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی "اقرأ” سے شروع ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ علم انسان کی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ علمِ دین وہ نور ہے جو انسان کے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے اور اسے حق و باطل میں تمیز عطا کرتا ہے۔
علمِ دین کیوں ضروری ہے؟
علمِ دین کے بغیر عبادات صحیح طریقے سے ادا نہیں کی جا سکتیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو ان کے احکام معلوم ہوں۔ اگر علم نہ ہو تو نیت، طریقہ اور مقصد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
علم انسان کے عقائد کو مضبوط کرتا ہے اور اسے شکوک و شبہات سے محفوظ رکھتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں مختلف نظریات اور فتنوں کا غلبہ ہے، وہاں صحیح دینی علم امت کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔
علماء کا مقام
علماء کرام کو انبیاء کا وارث کہا گیا ہے۔ وہ نہ صرف خود علم حاصل کرتے ہیں بلکہ اسے معاشرے تک پہنچاتے ہیں۔ مدارسِ دینیہ اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے افراد تیار کرتے ہیں جو قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع عطا فرمائے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔
