ادارے کی سالانہ کارکردگی (۲۰۲۵)
زیر نظر رپورٹ میں اس سال کے دوران ادارےکی مختلف شعبہ جات میں انجام دی جانے والی اہم دینی، تعلیمی،علمی اور انتظامی خدمات کو ترتیب وار ذکر کیا جا رہا ہے۔
۱) تدریسی و نصابی سرگرمیاں:
٭ ابتدائی درجات میں اردو میں پختگی کے لئے دو ماہ اردو کا خصوصی نصاب رکھا گیا۔
٭ عربی دوم کے لئے انگریزی زبان کامستقل گھنٹہ رکھا گیا۔
٭ عربی سوم کے لئے صف عربی کا مستقل گھنٹہ رکھا گیا،جس میںعربی تکلم،مطالعہ،عربی ویڈیوز،عربی اخبارات ومجلات اورتمرینات وغیرہ کا نظام بنایا گیا۔
٭ ناظرہ کے طلبہ کے لئے انگریزی اور حساب کو نصاب میں شامل کیا گیا۔
٭ بڑی جماعت کے لئے محاضرہ کا مستقل گھنٹہ مقرر کیا گیا۔
٭دوم و سوم عربی کے طلبہ کےلئے حل عبارت پر خصوصی توجہ کے لئے مستقل گھنٹہ رکھا گیا۔
٭آف لائن مؤمنہ کورس کا آغاز ہوا۔
٭لڑکیوں اور خواتین میں ناظرہ آن لائن کا نظام بنایا گیا۔
٭ناظرہ اناث میں پختگی کے لئے اہلیہ مولانا عبدالرقیب صاحب (ٹولی چوکی) کو ناظم تعلیمات مقرر کیا گیا۔
۲)تعلیمی امور:
٭ دارالعلوم دیوبند میں ہفتم عربی مطلوب میں داخلہ کے لئے تیاری کا خصوصی انتظام اساتذہ کی نگرانی میں ہورہا ہے۔
٭ سابقہ سالوں کی طرح اس سال بھی بیرونی ممتحن حضرات امتحان کے لئےششماہی وسالانہ امتحانات کے بشمول ماہانہ امتحانات میں بھی تشریف لائے۔
٭ دوم تا پنجم ہر جماعت کے لئےاردو دیواری پرچہ کے بشمول فارسی و عربی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
٭درسی معاون کتب ،عربی شروحات،اہم حواشی پر مشتمل ودیگر خصوصیات کے حامل کتابیں منگوائی گئیں۔
٭ آن لائن ذکور عالمیت کے نظام تعلیم کو مزید مضبوط اور منظم بنایا گیا۔
٭لائبریری میں اس سال تقریباً بیس ہزارکی کتب خریدی گئی۔
٭عالمیت اناث و ذکور میں محاضرات پابندی سے ہوئے۔
٭ناظم صاحب کے محاضرات بھی اس سال آن لائن و آف لائن اہتمام کے ساتھ ہوئے ۔
٭کالج کے طلبہ و طالبات اور اردو ناخواندہ حضرات کے لئے چار ماہی اردو کورس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
٭حضرت شاہ جمال الرحمن صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی میں ہر ماہ آخری چہارشنبہ فکری محاضرہ ہورہا ہے۔
٭گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی اساتذہ کی نگرانی میں مطالعہ کا نظام منظم رہا۔
۳) علمی و تصنیفی خدمات:
٭ہندوستان کے بڑے اداروں،لائبریریوں،خانقاہوں ،اہل اللہ اور ممتاز علماء کی خدمت میں ادارہ کی شائع کردہ کتابیں بطور ہدیہ ارسال کی گئیں۔
٭دینی امور پر اجرت کا حکم اور غلط فہمیوں کا ازالہ،بالغات اور نسوان کے مکاتب،عظمتِ قرآن اور مقام حفاظ کرام،صحبت اہل اللہ کی اہمیت و افادیت،گائے کشی و قربانی -حقائق اور غلط فہمیاں،جبراً تبدیلیٔ مذہب -حقائق اور غلط فہمیاں ،نمازِ فجر کی اہمیت اور سنت فجر کے احکام،جماعت اولی کی تاکیدات اور جماعت ثانیہ کے مفسدات،دکان ومکان رہن پر لینے کی جائز و متبادل شکلیں اور بڑوں کا بچپن طبع کی گئیں۔
٭ادارۃ المباحث سیمینار کے شرکاء میں ہر شریک کار کو تقریباً نئی کتب بطور ہدیہ پیش کی گئیں۔
٭ حسبِ سابق اس سال بھی متنوع محاضرات کا انعقاد عمل میں آیا۔
٭’’تحفظِ شریعت ٹرسٹ‘‘ کے زیر اہتمام ماہانہ فکری محاضرہ کا آغاز کیا گیا۔
٭امسال شعبہ تحقیق و تصنیف و تالیف سے ۱۰؍ کتب شائع ہوئی۔
٭اس سال حفصہ للبنات میں لائبریری کا آغاز کیا گیا۔
٭اس سال دارالافتاء سے تقریباً پچاس فتاویٰ جات جاری کئے گئے۔
۴) مسابقات:
٭ اس سال عربی و انگریزی تقریری مسابقےمنعقد ہونے والے ہیں۔
٭ اس سال جمیع طلبہ کے درمیان تحریری مسابقہ منعقد ہوا۔
٭ ذکور ناظرہ میں حمد و نعت کا مسابقہ ہوا۔
٭ اناث میں بھی حمد و تقریر ی مسابقہ ہوا۔
٭ مدرسہ کے طلباء نے لجنۃ العلماء کے تقریری مسابقے میں شرکت کی ۔
۵) تربیتی امور:
٭ طلبہ کی اصلاح کے لئے ہر ہفتے اساتذہ کرام کی نصیحتیں مستقل نکات کی شکل میں پیش کی گئیں۔
٭بروز جمعہ بعد نماز عصر حضرت ناظم محترم کی اصلاحی مجلس منعقد ہوتی ہے،جس میں طلبہ و عوام حاضر رہتے ہیں۔
٭ اس سال ماہانہ واری اصلاحی مجلس میں بیان کیلئے مولاناخواجہ نصیر صاحب دامت برکاتہم ، مولانا امجد صاحب دامت برکاتہم(خلیفۂ حضرت حکیم اختر صاحبؒ) ،مولانا احمد ومیض صاحب ندوی دامت برکاتہم،مولانا عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم، مولانا زید مظاہری صاحب ندوی دامت برکاتہم۔
٭ وقتا فوقتا طلباء عالمیت کو فیض گاہ لے جایا گیا ( تر بیت کے پیش نظر)۔
٭ہر تعطیل میں اساتذہ کی نگرانی میں جماعت گئی ہے،اور ہفتہ واری جماعت کا بھی آغاز ہوا ہے۔
٭بعد نماز عشاء طلبۂ عالمیت میں مجلس درود شریف کا آغاز ہوا ۔
۶)انتظامی امور:
٭ اساتذہ کرام کے لئے ظہرانہ کو مزید بہتر بنایا گیااور ہر ماہ ایک مرتبہ حضرت ناظم محترم کی جانب سے جمیع اساتذہ کے لئے دعوت کا نظام رہتا ہے۔
٭ طلبہ کے سرپرستوں سے فون پر رابطہ کو منظم کیا گیا،اورایک استاذ کو اسی کا ذمہ دار بنایا گیا ہے، جن کے علاوہ کسی اور استاذ کے فون سے طلبہ کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
٭ ادارہ میں صفائی ستھرائی پر مستقل توجہ دی گئی۔
٭ فون کے استعمال پر سختی اور پابندی عائد کی گئی(اوراسی بنیاد پر اس سال چندطلبہ کا اخراج ہوا)۔
٭ ضبط شدہ سامان کو طلبہ کے نام کے ساتھ لاکر میں محفوظ کیا گیا۔
٭اساتذہ کی حاضری کو منظم کرنے کے لئے Face recognition رکھا گیا۔
٭حکومت کے قوانین کے پیشِ نظر آن لائن سیلری کا نظام بنایا گیا۔
٭طلبہ کے لئےہر ماہ پرتکلف دعوت مع شیرینی کا نظام بنایا گیا۔
٭سالِ گذشتہ کی طرح امسال بھی سردیوں کے موسم میں طلبۂ عزیز کے لئے ناشتہ میں انڈوں کا نظام رہا۔
دیگر:
٭مفتی احمد اللہ افشیل نے 50,000/-سسبکرائیبر س کے وذریعہ ایک سنگ میل پار کر لیا ۔
٭ادارے کی ویب سائٹ کا کام تقریباً مکمل ہونے کو ہے،جو عنقریب منظر عام پہ آنے والی ہے۔
٭ڈیڑھ سو گز کی زمین کے لئے رقم ادا کی گئی۔
